December 25, 2013

ريپ اور معصوم پاکستانی بچے غافل اور بےحس معاشرہ جھاں ھر چوتھا بچہ ريپ ھوتا ھے



بچوں کا ريپ  اور پاکستانی معاشرہ
پاکستان ميں لاھور ميں ايک پانچ سال کی معصوم بچی کے ساتھہ اجتمائی زيادتی نے پوری قوم کو ھلا ديا
لاھور ميں ۱۴۵ کيس بچوں کے ساتھہ ريپ کے رجسٹر ھوئے جن ميں اکثريت لڑکوں کی ھے
ريپ ميں اضافہ ھو رھا ھے ناقص قوانين اور اثر رسوخ کے باعث لوگ سزا سے بچ رھے ھيں 
اس ميں جرم کرنے والے بھی بچے ھيں


ھمارا معاشرہ اور اس ميں بےتحاشہ بچے ماں باپ کی توجہ سے محروم ھيں الئيٹ کلاس ميں ويسے ھی بچوں کے لئے ٹائم نھيں
يے نوکر يا کسی رشتےدار کے ھاتوں جنسی تشدد کی طرف مائل ھو جاتے ھيں
افسوس ھماری سوسائٹی ان واقعات کو چھپا ديتی ھے

جو پھول اس طريقے سے مسلے جاتے ھيں ان کی شخصيت کچل جاتی ھے

اگر ان کو فوری طور پر نا سنبھالا جائے تو يے نفسياتی مريض بن جاتے ھيں
يے بچے اپنے پر ظلم بھولتے نھيں اور انتقام کی آگ ميں جلتے ھيں اور پھر يے بھی اس طرح سے دوسروں کی زندگی سے کھيلتے ھيں
اپنے گھر پر توجہ ديں بچوں پر خاص نگاہ رکھيں ٹيچر مولوی حضرات کے پاس اکيلے مت چھوڑيں کمرے کا دروازہ کبھی بند نا کريں صرف لڑکياں نھيں لڑکے بھی خطرے ميں ھيں

اگر ايسا حادثہ ھو گيا ھے تو بچے کو کسی ماھر نفسيات کے پاس لے جائيں اور کوشش کريں اس کے زھين کو اس حادثے سے باھر لائيں
اس معاشرہ ميں ايسے حادثات روز کا معمول ھيں اگر کوئی سخت سزا نا ھوئی تو يے بڑھتا رھے گا

لاھور ھی کی داستان ھے ايک معصوم بچی ايک رشتےدار کی ھوس کا نشانہ بنی اور پھر گھر سے بھاگ گئی اب وہ ايک کال گرل ھے
ايک سروے جو تين سو بچوں پر کيا گيا اس ميں پچيس فيصد بچوں کے ساتھہ جنسی تشدد ھوا ھے گويا ھر چوتھا بچہ ريپ ھوا

ھم سب کو مل کر اس مسئلے کو حل کرنا ھے

آئيں اپنے بچوں کو نئی زندگی ديں

No comments:

Post a Comment