Showing posts with label URDU-BLOGS. Show all posts
Showing posts with label URDU-BLOGS. Show all posts

July 6, 2014

غیرت مند کی درخواست۔۔۔تھانیدار کے نام





تھانیدار صاحب!میرا نام ’’ماما مودا‘‘ ہے‘ میں ایک جدی پشتی غیرت مند انسان ہوں‘ میں نے آج کے جدید دور میں بھی اپنے گھر میں کیبل نہیں لگوائی‘ صرف ڈش پر گزارہ ہے۔میری بیٹی ’’نیک پروین‘‘یونیورسٹی میں لڑکوں کے ساتھ پڑھتی ہے لیکن اس کے باوجود اس کی غیرت مندی کی مثالیں زبان زدِ عام ہیں۔اُس نے آج تک کسی لڑکے سے بات نہیں کی‘ صرف اپنی سہیلیوں سے ہی رابطہ رکھتی ہے ‘ اس کی ایک سہیلی نے پچھلے ہفتے اسے نئے ماڈل کا آئی فون گفٹ کیا تھا اور کل ایک سونے کا لاکٹ بھی دیا ہے۔میری نیک پروین اپنی اِس سہیلی سے اتنی محبت کرتی ہے کہ دونوں رات رات بھر فون پر باتیں کرتے ہیں ۔میں نے ایک دفعہ اپنی بیٹی سے کہا تھا کہ کسی دن اپنی سہیلی کو اپنے گھر کھانے پر بلانا‘ یہ سنتے ہی وہ جلدی سے بولی۔۔۔’’ابو! میری سہیلی غیر مردوں سے بات نہیں کرتی‘‘۔سبحان اللہ۔۔۔تھانیدار صاحب یہ ہوتی ہیں غیرت مندی کی علامتیں۔ آپ کو بتاتا چلوں کہ میری بیٹی کی سہیلی بھی اسی کی طرح غیرت مند ہے‘ عام لڑکیوں کی طرح میک اپ وغیرہ بالکل نہیں کرتی‘ ایک دفعہ میں نے اپنی بیٹی کو کہا تھا کہ تم بھی اپنی سہیلی کو کوئی میک اپ کٹ وغیرہ گفٹ کردو‘ لیکن میری بیٹی کہنے لگی کہ ابومیری سہیلی میک اپ نہیں کرتی‘ آپ اس کے لیے کوئی اچھا سا آفٹر شیو لوشن لا دیں۔۔۔!!!
عالی جاہ! میں نے ساری زندگی غیرت کے ساتھ گزاری ہے‘ میری بیوی کا نام ’’غیرت بی بی ‘‘ ہے۔سارا محلہ ہماری غیرت مندی کا قائل ہے‘ میری بیوی تو اتنی غیرت مند ہے کہ اس نے روپے پیسے رکھنے کے لیے آج تک پرس نہیں خریدا۔۔۔کہتی ہے کہ پرس رکھوں گی تو کوئی لوفر اسے چھیننے کی کوشش کرے گا لہذا جب پرس کے بغیر ہی کام چل سکتا ہے تو کیوں اتنی فضول خرچی کی جائے۔تھانیدار صاحب! میری غیرت مندی ہی میرا کل اثاثہ ہے‘ مجھے کامل یقین ہے کہ جو کچھ میرا دل کہتا ہے وہی حقیقت ہے‘ جو میں سوچتا ہوں وہی قابل توجہ ہے‘ جو میری عقل کہتی ہے وہی حرفِ آخر ہے۔ ایک غیرت مند محبِ وطن ہونے کے ناتے میرا ایمان ہے اس ملک میں صرف غیرت مندوں کو ہی رہنے کا حق ہے‘ بے غیرتوں کو ٹھڈے مار کر سرحد پار دھکیل دینا چاہیے۔میری ساری دلیلیں برحق ہیں لیکن عالی جاہ۔۔۔ ایک ناہنجار انسان میری ان دلیلوں پر اختلاف کرنے کی جرات کرتا ہے‘ یہ بدبخت نہ صرف مجھے غلط کہتا ہے بلکہ ایک دفعہ اس نے سر عام مجھے ’’بونگا‘‘ کہہ کر بھی سب کے سامنے ذلیل کیا ہے ۔ میری ذاتی رائے میں اس شخص کو واجب القتل قرار دینا عین ثواب ہوگا‘ کاش کوئی عالم دین اس بارے میں فتویٰ صادر فرما دیں۔ اِس لفنگے کا اصل نام تو مجھے پتا نہیں لیکن اس کے کرتوت اور شکل بتاتی ہے کہ اس کا نام ’’بے غیرت ‘‘ ہونا چاہیے۔
تھانیدار صاحب! میں نے ایک دفعہ اسے کہا کہ اگر اسامہ بن لادن واقعی مر چکا ہے تو امریکہ اس کی کوئی وڈیو کیوں نہیں دکھاتا؟ میرا سوال سن کر یہ خبیث انسان زور سے ہنسا اور کہنے لگا’’اگر اسامہ زندہ ہے تو القاعدہ اس کی کوئی وڈیوکیوں نہیں دکھاتا؟‘‘۔اسی طرح ایک دفعہ میں نے کہا کہ پاکستان کبھی نہیں ٹوٹ سکتا۔۔۔تو یہ شیطان صفت انسان تیزی سے بولا’’لیکن ایسا تو ایک دفعہ ہوچکا ہے‘‘۔ عالی جاہ ذرا ملاحظہ فرمائیں کہ یہ سازشی انسان کس قسم کی سوچ رکھتاہے‘ یقین کریں اس کے بعض جوابات تو سراسرغیرت مندی کو للکارنے کے زمرے میں آتے ہیں‘ مثلاً میں نے ایک دفعہ کہا کہ امریکہ ڈرون حملوں میں بے گناہوں کو مار رہا ہے۔۔۔یہ سنتے ہی اِس نے گھور کر میری طرف دیکھا اور کہنے لگا’’ڈرون میں داغا جانے والا ایک میزائل لگ بھگ 70 ہزار امریکی ڈالر مالیت کا ہوتاہے‘ آخر امریکہ اتنے مہنگے طریقے سے بے گناہوں کو کیوں مار رہا ہے؟ اگر بے گناہوں کو ہی مارنا ہے تو عام سے بم کیوں نہیں استعمال کرتا؟؟؟‘‘ میں نے غصے سے کہا ’’بدتمیز انسان! کیا تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ امریکہ بے گناہوں کو نہیں مار رہا؟؟؟‘‘ میری بات کے جواب میں اِس کے ہونٹوں پر پھر بیہودہ سی مسکراہٹ ابھری اور کہنے لگا’’اگر ایسی بات ہے تو امریکہ نے اپنے سب سے بڑے دشمن اسامہ بن لادن کو ہلاک کرتے وقت اس کے بیوی بچوں کو کیوں چھوڑ دیا؟؟؟‘‘۔۔۔جناب عالی! یہ بات سن کر میری برداشت جواب دے گئی اور میں نے اس کمینے کو کھری کھری سنا دیں۔تھانیدار صاحب!مجھے شک ہے کہ یہ اسرائیل کا ایجنٹ ہے اور ہماری غیرت مارنے کے مشن پر یہاں تعینات ہے۔آپ اس کی باتیں سنیں گے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ اس کے دماغ میں کتنا فتور بھرا ہوا ہے‘ کہتا ہے کہ یوٹیوب کھول دینی چاہیے ۔ میں نے اِسے غیرت دلائی کہ بے شرم انسان ‘ یو ٹیوب پر گستاخی سے بھرپور مواد موجود ہے اور تم پھر بھی کہہ رہے ہو کہ یوٹیوب کھول دینی چاہیے۔۔۔تو میرے قریب ہوکر خوفناک سا منہ بنا کر بولا’’لگ بھگ سارے اسلامی ملکوں میں ممنوعہ وڈیو پرفلٹر لگا کریو ٹیوب عام کھلی ہوئی ہے۔۔۔تو کیا وہ غلط ہیں؟‘‘ تھانیدار صاحب! کیا واقعی ایسا ہے؟ میرا خیال ہے یہ جھوٹ بول رہا ہے‘ میرا تو خیال ہے کہ ہمیں چاہیے ہم یوٹیوب کو ہمیشہ کے لیے ختم کرکے اس کی جگہ اپنی یو ٹیوب کھولیں جس کا نام ہو’’غیرت مند ٹیوب‘‘۔
تھانیدار صاحب! اس سے پہلے کہ وقت گز ر جائے ‘ اسے فوری طور پر گرفتار کرکے کسی ایسے مقام پر منتقل کریں جہاں اس کی چیخیں سننے والا کوئی نہ ہو۔۔۔میرا خیال ہے تونسہ شریف بہتر رہے گا۔۔۔اورہاں۔۔۔یاد رہے کہ یہ شخص نمازیں بھی پڑھتاہے اور مختلف سورتیں بھی اسے فر فر یاد ہیں‘ ظاہری بات ہے کافروں نے پوری تیاری کے ساتھ اِسے یہاں بھیجا ہے ۔ یہ شخص دھیرے دھیرے اپنا زہر سب لوگوں میں منتقل کر رہا ہے‘ جب آپ اسے گرفتار کریں تو احتیاطً اس کی قمیص اتروا کر کمر بھی دیکھ لیں ‘ مجھے پورا یقین ہے اِس نے کوئی نہ کوئی ’’ٹیٹو‘‘ بھی بنوا رکھا ہوگا۔بظاہر یہ شخص مسلمانوں کے حلیے میں ہی لگا پھرتاہے لیکن غیرت کے معاملے میں بالکل کورا ہے‘ میں نے کئی دفعہ اس کے گھر کے دروازے کی جھری میں سے جھانک کر دیکھا ہے‘ یہ اپنی جوان جہان بیوی کے ساتھ یسوپنجو کھیل رہا ہوتاہے۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ مردودانسان ہمیشہ غیر ملکی چیزیں خریدنے کو ترجیح دیتا ہے‘ ابھی دو دن پہلے میں نے اسے کافروں کا پرفیوم خریدتے دیکھا ہے حالانکہ اگر یہ مسلمان ہوتا تو ’’حافظ کا عطر‘‘ خریدتا۔اُمت مسلمہ کے مسائل کی بھی اسے کوئی پروا نہیں‘ برما‘ فلسطین ‘ صومالیہ اور افغانستان کے مسلمانوں کے لیے چندہ دینے کی بجائے محلے کے دوٹکے کے سبزی فروش کے بیمار بیٹے کے لیے مہنگی مہنگی دوائیاں خرید لاتاہے‘اہل محلہ کے مطابق اس کو نماز میں قیام کے دوران غلط طریقے سے ہاتھ باندھے ہوئے بھی پایا گیا ہے۔تھانیدار صاحب! میں نے ایک محب وطن اور غیرت مند ہونے کے ناتے آپ کو ساری تفصیل لکھ دی ہے‘ اب آپ کا یہ فرض ہے کہ اِس فتنے کو مزید پھیلنے سے روکیں ورنہ مجھ جیسے غیرت مند زہر کھا کر مرجائیں گے۔اس درخواست پر محلے کے پندرہ معتبر غیرت مندوں کے بھی دستخط موجود ہیں‘ مزید چاہیے ہوں تو بتا دیجئے گا‘ میں کسی سے کہہ کے انتظام کروا دوں گا۔ آپ کی داد رسی کا طالب۔۔۔ماما مودا (غیرت مند)

November 11, 2013

دس روپے کا سوال ہے بابا



بیاد ”حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ“

”دس روپے کا سوال ہے بابا “
شاعر: عابی مکھنوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی بیٹی کی تھام کر انگلی
چیز لینے میں گھر سے نکلا تھا
ایک بچی نے راستہ روکا
وہ جو بچی تھی پانچ سالوں کی
کھوئی سرخی تھی اس کے گالوں کی
کالا چہرہ تو بال بکھرے تھے
اس کے چہرے پہ سال بکھرے تھے
سوکھی سوکھی کلائی پر اس نے
ایک چوڑی کہیں سے چھوٹی سی
جانے کیسے پھنسا کے پہنی تھی
پاؤں ننگے قمیص میلی تھی
لٹکی گردن سے ایک تھیلی تھی
خالی خولی خلا سی آنکھیں تھیں
جیسے کالی بلا سی آنکھیں تھیں
جیسے چابی بھرا کھلونا ہو
جیسے بوڑھا سا کوئی بونا ہو
اس نے کھولا ادا سے مٹھی کو
ننھی منی سی اس ہتھیلی کو
میں نے دیکھا بڑی حقارت سے
ننھے ہونٹوں کی تھر تھراہٹ پہ
اک مشینی صدا کے جھٹکے تھے
”دس روپے کا سوال ہے بابا“
میں نے نفرت سے دیکھ کر اس کو
ہاتھ جھٹکا کہ جان چھوڑے وہ
وہ ہتھیلی وہیں پہ اٹکی تھی
وہ صدا بھی تھمی نہ اک پل کو
میری عادت ہے پیشے والوں کو
اک روپیہ کبھی نہیں دیتا
میں بھی ضدی تھا وہ بھی ضدی تھی
میں نے دیکھا کہ اس کے چہرے پہ
مرتے پچپن کی ہلکی لالی تھی
اس کے جملے کے سارے لفظوں میں
لفظ ”بابا“ ذرا سا بھاری تھا
دس روپے تو وہ تیز کہتی تھی
لفظ ”بابا“ پہ ہلکی اٹکن تھی
”دس روپے کا سوال ہے بابا“
اس کے بابا نے اس کو سکھلایا
اس کی اماں نے اس کو رٹوایا
دس روپے تو وہ تیز کہتی تھی
لفظ ”بابا“ پہ کیسی اٹکن تھی
خالی خولی خلا سی آنکھوں نے
میرے چہرے کو غور سے دیکھا
اس کے قاتل سپاٹ چہرے پہ
ایک قاتل سی مسکراہٹ تھی
اس کے ہاتھوں کی انگلیاں مڑ کر
پھر سے مٹھی کی شکل میں آئیں
میں نے دیکھا تو اس کے ماتھے پہ
اک” عبارت “رواں سی لکھی تھی
”دس روپے کو سنبھال تُو بابا“
ساری قبروں پہ دستکیں دینا
کام رب نے مرا لگایا ہے
رب نے چھوٹی سی عمر میں مجھ کو
دیکھ کتنا بڑا بنایا ہے
ان شریفوں سے اور خانوں سے
میرے جیسے ہزاروں بچوں کا
ایک لشکر سوال کرتا ہے
”یہ جو بچپن کا ایک موسم ہے“
”سارے بچوں پہ کیوں نہیں آتا “
میری مانو تو مان لو اتنا
ان مساجد میں اور تھانوں میں
ساری سڑکوں پہ سب مکانوں میں
خانقاہوں میں آستانوں میں
گلتے سڑتے غلیظ لاشے ہیں
روز قبروں پہ دستکیں دے کر
میرے جیسے ہزار ہا بچے
روز”بابا“ تلاش کرتے ہیں
تم جو کہتے ہو پیشہ ور بچے
اپنے بچپن کی آڑ میں عابی
مال و زر کو تلاش کرتے ہیں
آج سن لو کہ بات اتنی ہے
صدیوں پہلے کہیں پہ کھویا تھا
اپنے”بابا“ عمر رضی اللہ عنہ کو ہم سب نے
ایسے”بابا“ کہ جن کے سائے میں
میرے جیسی کسی بھی بچی کا
کوئی بچپن نہیں مرا گھٹ کر
”دس روپے کا سوال ہے بابا“
یہ صدا تو فقط بہانہ ہے
ہم کو”بابا“کے پاس جانا ہے
دس روپے کو سنبھال تُو بابا
ہم کو”بابا“ کے پاس جانا ہے

:::::::::عابی مکھنوی ::::

چاچا چَوَ ل


 

’چاچا چَوَ ل‘

 میرے محلے میں ایک صاحب رہتے ہیں جن کا نام کثرتِ رائے سے ’’چاچا چَوَ ل‘‘ منظور ہوچکا ہے۔چاچے کا طریقہ واردات بڑا نرالا ہے، عموماً لوگ قرض مانگنے والوں سے کنی کتراتے ہیں ،لیکن چاچا ،قرض مانگنے والوں کی تلاش میں رہتاہے۔اس کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر شخص اس سے قر ض مانگے۔ابھی تک محلے کے تین سو سے زائداس سے قرض لے چکے ہیں۔چاچے کی ایک ’’مکروہ‘‘ خصوصیت یہ بھی ہے کہ چاچا عام حالات میں قرض واپس نہیں لیتا۔ اگر کوئی اسے قرض واپس کرنے کی کوشش بھی کرے تو چاچے کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ ایسا نہ ہونے پائے۔لیکن چاچا بڑی شے ہے، جس کو قرض دیتا ہے، پھر ساری زندگی اس سے کام نکلواتا رہتاہے اور قرض کا تقاضا ہمیشہ اُس وقت کرتا ہے جب اسے پورا یقین ہوجائے کہ اب مقروض بالکل بھی قرض چکانے کی پوزیشن میں نہیں۔ایسے حالات میں چاچے کا رویہ خودبخود سخت ہوجاتاہے، وہ مقروض کو انتہائی خوفناک طریقے سے گھورتاہے، باربار اس کے گھر کی بیل بجا کر پیغام بھجواتا ہے کہ ’’مجھ سے فوراً ملو۔‘‘ اس کے موبائل پر Missed کالیں مارتاہے اور کئی دفعہ تو اس کے دروازے پر کاغذ بھی چپکا آتا ہے جس پر لکھا ہوتاہے کہ ’’آج شام 5 بجے تک ہر حال میں مجھے پیسے مل جانے چاہئیں۔‘‘مقروض بیچارہ اس خطرناک صورتحال سے گھبرا کرچاچے کی منت سماجت کرتاہے، تاہم تھوڑی سی بحث و تمہید کے بعد چاچا اسے خطرناک نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے مزید مہلت دینے پر آمادہ ہوجاتاہے۔

چاچے کا قرض پانچ ہزار سے زیادہ کا نہیں ہوتا، وہ عموماً ریڑھی والوں، چھوٹی دوکانوں والوں اور قلفیاں بیچنے والوں کو قرض دیتاہے اور پھر ان سے مفت چیزیں کھاتاہے۔وہ بیچارے اصل رقم سے زیادہ کی چیزیں کھِلا کر بھی چاچے کے مقروض ہی رہتے ہیں لیکن زبان کھولنے کی جرات نہیں کر سکتے کہ چاچا اُسی وقت رقم کا تقاضا کر سکتاہے۔چاچے کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر اُس بندے کو قرض دے جس سے وہ اچھے خاصے کام نکلوا سکتاہے، ایسے میں کوئی بندہ قرض نہ بھی مانگے تو چاچا زبردستی اسے قرض دے کر اپنا مقروض بنا لیتاہے، میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔میں لارنس گارڈن میں ایک دوست کے انتظار میں اکیلا ہی واک کر رہا تھا کہ اچانک چاچے نے مجھے گھیر لیا۔
’’ننگے پیر چل رہے ہو۔۔۔جوتی کیوں نہیں خرید لیتے؟‘‘
میں نے منہ بنایا۔۔۔’’چاچا میرے پاس جوتی موجود ہے، میں ویسے ہی گھاس پر ننگے پیر چلنا پسند کرتاہوں‘‘۔
’’اچھا بہانہ ہے۔۔۔‘‘چاچے نے گہرا سانس لیا۔۔۔’’سفید پوش لوگ مرجاتے ہیں اپنی ضرورت نہیں بتاتے۔ بھئی کوئی پیسے ویسے چاہئے ہوں تو بلاجھجک بتانا‘‘۔
’’بڑی مہربانی چاچا۔۔۔فی الحال تو اللہ کا شکر ہے۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’لیکن مجھے لگتا ہے تم کچھ چھپا رہے ہو‘‘۔۔۔چاچے نے مشفقانہ انداز میں کہا۔میں چاچے کی بات پر کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ چاچے نے میری بات کاٹی اور دوبارہ بولا’’بیٹا! انسان کی ضرورت کا کچھ پتا نہیں ہوتا، چلو ضرورت بے شک نہ بتاؤ، پیسے تو لے لو۔۔۔‘‘ یہ کہتے ہوئے چاچے نے اپنا دائیاں ہاتھ واسکٹ کی جیب میں ڈال دیا۔
میں نے جلدی سے کہا۔۔۔’’چاچا میں سچ کہہ رہا ہوں کہ مجھے۔۔۔‘‘ لیکن میری بات پوری ہونے سے پہلے ہی چاچے نے پانچ ہزار کاکڑکڑاتا نوٹ میری مٹھی میں دبا دیا اوراپنی نم آلود آنکھوں کو رومال سے صاف کرتے ہوئے بولا۔۔۔’’خدا برا وقت کسی پر نہ لائے، انسان خود تو بھوکا سو سکتاہے لیکن بیوی بچوں کی بھوک نہیں دیکھی جاتی۔بس اب انکار مت کرنا ، مجھے پتا ہے تمہاری غیرت گوارہ نہیں کر رہی ہوگی لیکن بیٹا! مجھ سے کیسی شرم؟‘‘ یہ کہہ کر چاچے نے اطمینان سے اپنی واسکٹ درست کی اور یہ جا وہ جا! آج اس بات کو ایک سال ہوچکا ہے۔چاچا روزانہ میرے موبائل سے چھ سات کالیں کرتاہے، مہمان آجائیں تو ان کے قیام و طعام کا بندوبست بھی میرے گھر پر ہوتاہے، چھ سات مرتبہ مجھ سے ہمیشہ کے لیے کپڑے مانگ کے لے جاچکا ہے، اس کے بچوں کو سکول سے آنے میں دیر ہوجائے تو ان کو لانے کا فریضہ بھی مجھے ہی سرانجام دینا پڑتاہے، شام کا کھانا اور چائے اکثر چاچا میرے ساتھ ہی پیتا ہے، کبھی کبھی چھوٹی موٹی ضرورتوں کے لیے سو دو سو ادھار بھی لے جاتاہے جو کبھی واپس نہیں ہوتے،کیبل والے کو بتائے بغیر اس نے اپنے گھر کی کیبل کٹوا کرنے میری کیبل میں جوائنٹ لگوا لیا ہے جس کی وجہ سے اس کے گھر کی کیبل بالکل صاف آتی ہے اور میرے ہاں صرف لہریں رقص کرتی ہیں، بیوی بچوں کو سیر کرانے کے لیے وہ میری گاڑی ہر دوسرے دن لے جاتاہے۔۔۔اور تو اور اس نے یہ ذمہ داری بھی مجھ پر ڈال دی ہے کہ اس کے میٹرک فیل بیٹے کو اچھی سی نوکری بھی میں دلواؤں۔
خدا کی قسم !!!۔۔۔میں ہر طرح سے چاچے کا قرض لوٹانے کی پوزیشن میں ہوں، کئی بارکوشش کرکے زبردستی چاچے کی جیب میں پانچ ہزار کا نوٹ ڈال چکا ہوں لیکن چاچا شور مچا دیتاہے، چیختا ہے، چلاتاہے ، واسطے دیتاہے اور مجھے مجبوراً نوٹ واپس جیب میں رکھنا پڑ جاتاہے۔پورے محلے کو پتا چل چکا ہے کہ میں چاچے کا ’’قرضئی‘‘ ہوں۔میرے ساتھ والا ہمسایہ’’حامد‘‘ بھی چاچے کا قرضئی ہے اور اسی بناء پر پورے محلے میں’’حامد قرضئی‘‘ مشہور ہے۔ ہم دونوں چاچے کو سخت بات کہنے سے گھبراتے ہیں، میں نے کئی بار سوچا کہ میں چاچے کے ساتھ ذرا غصے سے پیش آؤں لیکن پھر سوچتا ہوں محلے والا کیا سوچیں گے کہ جس سے قرض لیا،اُسی کو آنکھیں دکھاتاہے۔اب تو حد ہوچکی ہے، چاچے نے اپنے بیٹے کو کمپیوٹر سیکھنے کے لیے میرے پاس بھیجنا شروع کر دیا ہے۔میں نے بارہا چاچے کو سمجھانے کی کوشش کی کہ کمپیوٹر میرے ذاتی استعمال کے لیے ہے، لیکن چاچا ہر دفعہ مسکرا کر کہتاہے۔۔۔’’بیٹا! میں نے بھی پانچ ہزار ذاتی استعمال کے لیے رکھے تھے ،لیکن میرا ایمان ہے کہ محلے داروں کے بارے میں ذاتیات سے بلند ہوکر سوچنا چاہیے‘‘۔ یہ جواب سن کر میرے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ چاچے کے بیٹے کو کمپیوٹر سکھانا شروع کر دوں حالانکہ اُس نے کمپیوٹر خاک سیکھنا ہے، وہ آدھے سے زیادہ وقت تاش والی گیمیں کھیلنے میں لگا رہتاہے۔میں کچھ کہنے کے باوجود بھی اس کو سخت الفاظ نہیں کہہ سکتا ، آخرمیں اس کے باپ کا قرضئی ہوں۔چاچا میرے حواس پر حاوی ہوتا جارہا ہے، مجھے لگتا ہے کہ عنقریب میں ہر کام اس کی مرضی سے کیا کروں گا۔چاچا نہ ہوا ’’آئی ایم ایف‘‘ ہوگیا

امریکہ کا فضل




عرب میں ایک عورت تھی اس کا نام اُم جعفر تھا۔ انتہائی سخی تھی۔ لوگوں میں ایسے تقسیم کرتی تھی کہ دائیں کو بائیں ہاتھ کا پتا نہ چلے۔ کچھ دنوں سے وہ ایک راستے سے گزرنے لگی۔ اس راستے پر دو اندھے بیٹھے ہوتے۔ یہ دونوں صدائیں لگاتے۔ ایک کی صدا ہوتی: "الٰہی! مجھے اپنے فضل و کرم سے روزی عطا کر۔ " دوسرا اندھا کہتا: "یا رب مجھے ام جعفر کا بچا ہوا عطا کر۔"

ام جعفر ان دونوں کی صدائیں سنتی اور دونوں کو عطا کرتی۔ جو شخص الله کا فضل طلب کر رہا تھا، اسے دو درہم دیتی جبکہ "ام جعفر" کے فضل کے طلبگار کو ایک بھنی ہوئی مرغی عطا کرتی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جسے مرغی ملتی، وہ اپنی مرغی دوسرے اندھے کو دو درہم میں بیچ دیتا۔ کئی دنوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ایک دن ام جعفر اس اندھے کے پاس آئی جو ام جعفر کا فضل طلب کرتا تھا اور اس سے سوال کرتا تھا اور اس سے سوال کیا: "کیا تمہیں سو دینار ملے ہیں؟" اندھا حیران ہو گیا۔ اس نے کہا: "نہیں! مجھے صرف ایک بھنی ہوئی مرغی ملتی تھی جو میں دو درہم میں بیچ دیتا تھا"۔ ام جعفر نے کہا: "جو الله کا فضل طلب کر رہا تھا، میں اسے دو درہم دیتی اور تمہیں بھنی ہوئی مرغی میں دس دینار ڈال کر دیتی رہی۔" اندھے نے اپنا سر پیٹنا شروع کر دیا۔ وہ چیخنے اور چلانے لگا: "ہائے میری کمبختی، کاش میں ایسا نہ کرتا۔ میں مارا گیا۔" ام جعفر نے کہا: "یقینا اللہ کا فضل طلب کرنے والا کامیاب ہے اور انسانوں کے فضل کا طلبگار محروم ہے۔"

لاریب! جو الله کے فضل کے سوا دیگر راستے تلاش کرتے ہیں، انھیں دنیا میں گھاٹا ملتا ہے اور آخرت میں رسوائی نصیب ہوتی ہے۔ کم ہی ایسے ہوں گے جو فاقوں سے مر جاتے ہوں گے۔ اس کے باوجود اس دنیا میں ایسوں کی کمی نہیں جو درہم و دینار کی خاطر ایمان تک بیچ دیتے ہیں۔ حکمران اپنی قوموں کا سودا کر لیتے ہیں۔ بیٹوں کو ڈالروں کے عوض بیچ کے فخر محسوس کرتے ہیں۔ نتیجے میں کیا ملتا ہے؟ ذلت و رسوائی اور دنیا بھر کی پھٹکار! 64 سال ہو گئے، ہم الله کے فضل کو چھوڑ کر ملکوں اور شخصیات کے فضل تلاش کرنے میں لگے رہے۔ جب انتخابات کا موسم آتا ہے، ہر سیاستداں یہی کہتا ہے کہ آئندہ کسی سے بھیک نہیں مانگیں گے۔ کشکول توڑ دیں گے۔ "الله کے فضل" کے سوا کسی سے فضل کے طلبگار نہیں ہوں گے، مگر حقیقت کی دنیا میں دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ پیشروئوں سے زیادہ "بھکاری پن" کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور بدقسمتی سے امریکہ میں یہ محاورہ بن گیا کہ پاکستانی ڈالر کی خطر اپنی ماں بھی بیچ دیتے ہیں! خصوصا نائن الیون کے بعد پرویز مشرف نے ڈالر کے لیے جو کچھ کیا، ان کا تذکرہ کرتے ہوئے شرم آتی ہے ۔ بدلے میں کیا ملا؟ معاشی خوشحالی؟؟ نہیں! رسوائی، جگ ہنسائی اور معاشی بدحالی۔  دس سال بعد دامن کو دیکھیے۔ پورا تار تار ہے اور اس میں بھیک کے چند دانوں کے سوا کچھ نہیں۔ گزشتہ دنوں اخبارات میں ایک رپورٹ آئی ہے جس سے امریکہ کا "فضل" تلاش کرنے والوں کی آنکھیں اب تو کھل جانی چاہئیں۔

بتایا گیا کہ قیام پاکستان سے2012  تک 64 برسوں میں امریکہ نے پاکستان کو 68ارب ڈالر کی امداد دی۔ 1948 میں پہلی بار7  لاکھ 70 ہزار ڈالر کی رقم معاشی امداد کی صورت میں ملی۔ بدلے میں امریکہ نے سوویت یونین کی جاسوسی کے لیے پاکستان کے ہوئی اڈے استعمال کرنے کی فرمائش کی۔ ایوب خان کا دور آیا تو ڈھائی ارب ڈالر ملے۔ جب روس کے خلاف نہتے افغانوں نے جہاد شروع کیا اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا عہد کیا اس وقت امریکہ بھی اس میں کود پڑا۔ جہاد کے اثرات زائل کرنے کے لیے ایک بار پھر پاکستان کو امداد دی گئی۔

چنانچہ1983  سے1988  تک پاکستان کو ہر سال ایک ارب ڈالر امداد دی گئی۔ امریکہ نے افغان جہاد کے ثمرات سمیٹنے کے بعد آنکھیں پھیر لیں۔ 10 سال تک مختلف بہانوں سے پابندیاں لگائے رکھیں۔ 2001 میں اسے پھر ضرورت ہوئی اور امداد بحال ہو گئی جو 2012 تک مجموعی طور پر محض25  ارب ڈالر بنتی ہے۔

یہ امریکی امداد کی تفصیلات ہیں، لیکن امریکہ کی اس دوستی میں جتنا نقصان پاکستان کا ہوا، وہ اس امداد سے کئی گنا زیادہ ہے ۔ ان دس برسوں میں امریکہ کے "فضل" کے نتیجے میں پاکستان کو100  ارب ڈالر سے زیادہ معاشی نقصان پہنچ چکا ہے۔ انسانی جانوں کا جو ضیاع ہوا، اسے اعداد و شمار کے دائرے میں لانا ممکن نہیں۔ ان دس برسوں میں بھائی کو بھائی کا دشمن بنا دیا۔ ہمارے ان قبائلیوں کو جنہوں نے ہمیشہ مفت کے سپاہیوں کا کردار ادا کیا، اپنے ہی اداروں کے ساتھ لڑا دیا گیا۔ اسی "امریکی فضل" کے نتیجے میں ہمارے ہزاروں لوگ اپنے گھروں سے بےگھر ہوئے۔ اپنے ہی ملک میں مہاجرت کی زندگی پر مجبور ہوئے۔ سوات کے وہ قافلے آج بھی یاد آتے ہیں تو آنکھیں چھلک پڑتی ہیں۔ وہ عزت مآب مائیں جنھیں کبھی آسمان نے بھی بے پردہ نہیں دیکھا تھا، اس "امریکی فضل" کے نتیجے میں بےپردہ ہوئیں۔ وزیرستان کی کتنی کلیاں ہیں، جو اس "امریکی فضل" کے نتیجے میں کھلنے سے پہلے ہی مسل دی گئیں۔ ان دنوں وزیرستان کے چند لوگ امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں۔ ان کی رودادوں نے وہاں لوگوں کو رلا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تو اس "امریکی فضل" کا بہت معمولی نظارہ ہے۔ اس امریکی فضل نے ہمارے اداروں کو متنازع بنا دیا۔ وہ جنھیں دیکھ کر عقیدت کے آنسو چھلک پڑتے تھے، اسی امریکی فضل نے لوگوں کی نظروں سے گرا دیا۔

ہمارا روشن خیال طبقہ بار بار ہمیں تعنے دیتا ہے کہ امریکہ کی امداد کھاتے ہو۔ ان کے ڈالروں پر پلتے ہو اور ان کے خلاف زبانیں بھی کھولتے ہو۔ کاش! وہ تعصب کی عینک اتار کر تجزیہ کریں کہ امریکہ کی امداد کے نتیجے میں ہم نے کتنی بربادیاں سمیٹیں؟ اپنے ملک کو کتنے مسائل کا شکار کیا؟ سب سے بڑھ کر اس امداد کے نتیجے میں امریکہ اور دنیا میں ہمارا کیا مقام بنا؟ ابھی چند دن قبل جب پاکستانی وزیراعظم امریکہ کی سرزمین پر قدم رکھ رہے تھے، اخبارات میں تصویر آئی اور خبر میں بتایا گیا کہ ان کے استقبال کے لیے دو تین ادنیٰ درجے کے امریکی اہلکار موجود ہیں۔ آنکھوں کے سامنے وہ ویڈیو گردش کرنے لگی جب صدر ایوب خان امریکہ کے دورے پر گئے تھے۔  اس وقت ان کے استقبال کے لیے امریکی صدر بذات خود موجود تھا۔ پھول اور پتیاں نچھاور ہو رہی تھیں، لیکن آج دیکھیے اس "امریکی فضل" نے ہمیں یہاں تک پہنچا دیا ہے کہ امریکہ میں ہی نہیں، پوری دنیا میں ہماری کوئی ساکھ نہیں بچی۔ آپ عام زندگی میں دیکھ لیجیے۔ جو شخص ہر وقت مانگتا رہتا ہو، اس کی معاشرے میں کتنی عزت رہ جاتی ہے! چنانچہ یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ آج اگر ہمارے حکمران یہ فیصلہ کر لیں کہ امریکہ کا فضل تلاش نہں کریں گے، اپنی قوم اور ملک کے وسائل بروئے کار لائیں گے، کسی ملک اور شخص کے "فضل" کے بجائے صرف الله کا فضل تلاش کریں گے تو آپ دیکھیں گے کہ ہم دنیا میں کیسے اپنا مقام بنا لیتے ہیں۔

نقش جمال
جمال عبداللہ عثمان